نئی دہلی، 5 ؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )گجرات کی پاٹیدار اور ہریانہ کی جاٹ ریزرویشن تحریکوں کے پس منظر میں لوک سبھا میں آج اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کے لیے ریزرویشن کے سلسلے میں مرکزی حکومت سے کوئی نظریاتی فیصلہ کرنے اور آئین میں ضروری ترمیم کرنے کی اپیل کی گئی۔تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے نرسیا گوڈ برا نے ایوان میں وقفہ صفر میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اونچی ذاتوں کے درمیان آج یہ پیغام جا رہا ہے کہ دیگر پسماندہ طبقہ (او بی سی)نے تمام سرکاری ملازمتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس سچائی یہ ہے کہ 50فیصد آبادی کے باوجود او بی سی کمیونٹی کی ملازمتوں میں موجودگی 9 فیصد تک نہیں پہنچ پائی ہے۔انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اونچی ذاتوں میں بھی اقتصادی طور پر کمزور لوگ ہیں لیکن الیکشن کے وقت سیاسی پارٹیاں منھ بھرائی کے لیے ان کے مسائل کو اٹھاتی ہیں اور اس سے سیاسی کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ٹی آر ایس کے رکن نے کہا کہ کل ہی گجرات ہائی کورٹ نے اسی نوعیت کے ایک معاملے میں ریاستی حکومت کی طرف سے دئے گئے ریزرویشن کو منسوخ کردیاہے۔انہوں نے کہا کہ او بی سی کمیونٹی کو اعتماد میں لے کر حکومت کو اقتصادی طور پر کمزور طبقہ (ای بی سی )کے لیے علیحدہ ریزرویشن کا انتظام کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ضروری ہو، تو حکومت آئین میں ترمیم کرے اور نظریاتی فیصلہ لے ۔